دبئی میں پراپرٹی کی وراثت: غیر ملکیوں کے لیے گائیڈ — Dubai real estate
Guides

دبئی میں پراپرٹی کی وراثت: غیر ملکیوں کے لیے گائیڈ

دبئی میں ایک غیر ملکی کی حیثیت سے، آپ کی محنت سے کمائی گئی جائیداد کی وراثت کی منصوبہ بندی کرنا بہت ضروری ہے۔ یہ گائیڈ متحدہ عرب امارات کے وراثت کے قوانین، وصیت کے اختیارات، اور آپ کے اثاثوں کی حفاظت کے لیے عملی اقدامات کی وضاحت کرتی ہے۔

صائمہ حسن — portrait
9 ستمبر، 2026 · 22 منٹ کا مطالعہ

دبئی میں پراپرٹی کا مالک ہونا ایک خواب کی تعبیر ہے۔ لیکن اس خواب کو اپنے پیاروں کے لیے ایک پائیدار میراث میں تبدیل کرنے کے لیے، ایک اہم قدم اٹھانا ضروری ہے جس پر اکثر لوگ توجہ نہیں دیتے: وراثت کی منصوبہ بندی۔ بحیثیت ایک غیر ملکی، آپ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر آپ کے ساتھ کچھ ہو جاتا ہے تو آپ کی محنت سے کمائی گئی جائیداد کا کیا ہوگا۔

اس تفصیلی گائیڈ میں، ہم ان تمام پہلوؤں کا احاطہ کریں گے جن پر آپ کو غور کرنے کی ضرورت ہے:

  • متحدہ عرب امارات میں غیر مسلم غیر ملکیوں کے لیے وراثت کے طے شدہ قوانین کو سمجھنا۔
  • شریعہ قانون کے اصول اور ان کا اطلاق۔
  • ایک قانونی وصیت تیار کرنا: آپ کے اختیارات بشمول DIFC وصیت۔
  • جائیداد کی مشترکہ ملکیت اور اس کے وراثتی مضمرات۔
  • اپنی زندگی میں اثاثوں کی منتقلی: گفٹ (ہبہ) کے فوائد اور نقصانات۔
  • آف پلان جائیدادوں اور رہن (مارگیج) کے لیے خصوصی تحفظات۔
  • آپ کے خاندان کے لیے عملی اقدامات اور ایک چیک لسٹ۔

متحدہ عرب امارات کا وراثتی قانون: غیر ملکیوں کے لیے تبدیلی

کئی سالوں سے، دبئی میں مقیم غیر ملکیوں کے لیے سب سے بڑا خدشہ یہ تھا کہ وصیت کی عدم موجودگی میں، ان کے اثاثوں پر شریعہ قانون کا اطلاق ہو سکتا ہے۔ شریعہ کے تحت وراثت کے اصول بہت مخصوص ہیں، جو خاندان کے مختلف افراد کے لیے پہلے سے طے شدہ حصے مختص کرتے ہیں، اور یہ اکثر مغربی ممالک کے ”آزادیِ وصیت“ کے تصور سے مختلف ہوتے ہیں، جہاں ایک شخص اپنے اثاثے جسے چاہے دے سکتا ہے۔ یہ غیر یقینی صورتحال بہت سے سرمایہ کاروں کے لیے پریشانی کا باعث تھی، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جن کے خاندانی حالات پیچیدہ تھے۔

خوش قسمتی سے، متحدہ عرب امارات کی قیادت نے اس مسئلے کو تسلیم کیا اور قانونی اصلاحات متعارف کروائیں۔ 2020 کا وفاقی حکم نامہ قانون نمبر 31، جسے 2023 میں وفاقی حکم نامہ قانون نمبر 41 کے ذریعے مزید واضح کیا گیا، نے غیر مسلم غیر ملکیوں کے لیے پرسنل اسٹیٹس کے معاملات میں ایک بڑی تبدیلی لائی۔ اب، پہلے سے طے شدہ اصول یہ ہے کہ اگر ایک غیر مسلم غیر ملکی بغیر وصیت کے انتقال کر جاتا ہے، تو اس کی جائیداد کی تقسیم اس کے آبائی ملک کے قانون کے مطابق ہوگی۔ اگر اس شخص کے آبائی ملک کا قانون اس صورتحال کا احاطہ نہیں کرتا یا اس کا اطلاق ممکن نہیں ہے، تو متحدہ عرب امارات کا وراثت کا قانون (جو شریعہ کے اصولوں پر مبنی نہیں ہے) لاگو ہوگا۔ یہ قانون اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ جائیداد میاں بیوی اور بچوں میں مساوی طور پر تقسیم ہو۔

یہ ایک بہت بڑی پیشرفت ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ شریعہ قانون اب غیر مسلموں کے لیے طے شدہ نظام نہیں رہا۔ تاہم، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ آپ کو وراثت کی منصوبہ بندی کی ضرورت نہیں ہے۔ آبائی ملک کے قانون کو لاگو کروانا ایک طویل اور مہنگا عدالتی عمل ہو سکتا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی عدالتوں کو آپ کے ملک کے قوانین کو سمجھنے اور ان کی تشریح کے لیے قانونی ماہرین اور تصدیق شدہ دستاویزات کی ضرورت ہوگی۔ اس عمل میں مہینوں، یا سال بھی لگ سکتے ہیں، جس کے دوران آپ کے اثاثے منجمد رہیں گے اور آپ کا خاندان مالی مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔ لہذا، اگرچہ قانون نے ایک حفاظتی جال فراہم کیا ہے، لیکن ایک واضح، قانونی طور پر قابلِ عمل وصیت اب بھی آپ کے خاندان کے مستقبل کو محفوظ بنانے کا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔

اگرچہ نئے قوانین نے غیر مسلموں کے لیے صورتحال کو واضح کر دیا ہے، لیکن یہ سمجھنا پھر بھی ضروری ہے کہ شریعہ وراثت کے نظام نے تاریخی طور پر متحدہ عرب امارات میں کس طرح کام کیا ہے، کیونکہ یہ اب بھی ملک کے قانون کی بنیاد ہے۔ شریعہ کے تحت، جسے ”میراث“ کہا جاتا ہے، وراثت کے قوانین قرآن پاک سے اخذ کیے گئے ہیں اور انتہائی تفصیلی ہیں۔ یہ ایک مقررہ فارمولے کی بنیاد پر اثاثوں کی تقسیم کا حکم دیتے ہیں۔

شریعہ کے تحت، مخصوص رشتہ داروں (جیسے والدین، میاں بیوی، بچے) کو ”قرآنی ورثاء“ کے طور پر متعین کیا گیا ہے اور انہیں جائیداد کا ایک مقررہ حصہ ملتا ہے۔ مثال کے طور پر، ایک بیوی اپنے شوہر کی جائیداد کا 1/8 حصہ وصول کر سکتی ہے اگر ان کے بچے ہوں، اور 1/4 حصہ اگر بچے نہ ہوں۔ باقی اثاثے دوسرے رشتہ داروں، جیسے بیٹوں اور بیٹیوں میں تقسیم کیے جاتے ہیں، جہاں بیٹوں کو عام طور پر بیٹیوں سے دگنا حصہ ملتا ہے۔ یہ نظام اسلامی معاشرے میں مردوں پر عائد مالی ذمہ داریوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، ایک مسلمان اپنی کل جائیداد کا صرف ایک تہائی حصہ اپنی وصیت کے ذریعے ایسے لوگوں کو دے سکتا ہے جو اس کے قرآنی وارث نہیں ہیں۔ بقیہ دو تہائی لازمی طور پر شریعہ کے فارمولے کے مطابق تقسیم ہونا چاہیے۔

غیر مسلم غیر ملکیوں کے لیے، یہ نظام ان کی توقعات سے بہت مختلف ہو سکتا ہے۔ بہت سے لوگ چاہتے ہیں کہ ان کی تمام جائیداد ان کے شریک حیات کو منتقل ہو جائے، یا اپنے بچوں میں برابر تقسیم ہو، قطع نظر اس کے کہ ان کی جنس کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ متحدہ عرب امارات نے غیر مسلموں کو اپنے قوانین کا انتخاب کرنے کا اختیار دیا ہے۔ آپ اپنی وصیت میں واضح طور پر یہ بتا سکتے ہیں کہ آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے اثاثے آپ کے آبائی ملک کے قانون کے تحت تقسیم ہوں، یا آپ DIFC وصیت جیسے میکانزم کا استعمال کر سکتے ہیں جو آپ کو اپنے اثاثے اپنی مرضی کے مطابق تقسیم کرنے کی مکمل آزادی دیتا ہے۔ انتخاب نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے خاندان کو ایک غیر یقینی، مہنگے اور طویل عدالتی عمل میں چھوڑ رہے ہیں۔

قانونی وصیت تیار کرنا: آپ کے اختیارات

جیسا کہ ہم نے قائم کیا ہے، ایک واضح وصیت کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔ متحدہ عرب امارات میں، غیر مسلم غیر ملکیوں کے پاس اپنی وصیت کو رجسٹر کرنے اور قانونی طور پر قابلِ عمل بنانے کے لیے کئی راستے ہیں۔ آپ کا انتخاب آپ کے اثاثوں کی نوعیت، آپ کے بجٹ اور آپ کی ذاتی ترجیحات پر منحصر ہوگا۔ میں اپنے کلائنٹس کو ہمیشہ مشورہ دیتی ہوں کہ وہ اس عمل کے لیے ایک مستند قانونی مشیر کی خدمات حاصل کریں۔

یہاں آپ کے اہم اختیارات ہیں:

1. DIFC وصیت سروس (Wills Service): یہ غیر مسلم غیر ملکیوں کے لیے سب سے مقبول اور محفوظ ترین آپشن ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جن کے اثاثے دبئی یا راس الخیمہ میں ہیں۔ دبئی انٹرنیشنل فنانشل سینٹر (DIFC) ایک کامن لا فری زون ہے جس کا اپنا عدالتی نظام ہے۔ اس کی وصیت سروس آپ کو ایک وصیت رجسٹر کرنے کی اجازت دیتی ہے جو انگریزی میں لکھی جاتی ہے اور آپ کو اپنے اثاثوں کو اپنی مرضی کے مطابق تقسیم کرنے کی مکمل آزادی دیتی ہے۔ DIFC وصیت شریعہ قوانین کے اطلاق کو واضح طور پر مسترد کرتی ہے اور ایک ہموار اور موثر پروبیٹ (وصیت کی توثیق) کے عمل کو یقینی بناتی ہے۔

  • DIFC وصیت کی اقسام اور تخمینی لاگت:
  • پراپرٹی وصیت (Property Will): دبئی یا راس الخیمہ میں آپ کی پانچ جائیدادوں کا احاطہ کرتی ہے۔ لاگت تقریباً 7,500 درہم + VAT ہے۔
  • مکمل وصیت (Full Will): دبئی یا راس الخیمہ میں آپ کے تمام اثاثوں (جائیداد، بینک اکاؤنٹس، حصص) کا احاطہ کرتی ہے۔ ایک فرد کے لیے لاگت تقریباً 10,000 درہم + VAT اور میاں بیوی کے لیے (Mirror Wills) تقریباً 15,000 درہم + VAT ہے۔
  • گارڈین شپ وصیت (Guardianship Will): اگر آپ کے بچے متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں تو ان کے لیے سرپرست مقرر کرنے کے لیے۔ لاگت تقریباً 5,000 درہم + VAT ہے۔

2. ابوظہبی جوڈیشل ڈیپارٹمنٹ (ADJD): ابوظہبی بھی غیر مسلموں کے لیے وصیت کی رجسٹریشن کی سہولت فراہم کرتا ہے جو پورے متحدہ عرب امارات میں موجود اثاثوں کا احاطہ کر سکتی ہے۔ یہ عمل DIFC سے ملتا جلتا ہے اور دو لسانی (عربی اور انگریزی) وصیت بنانے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ ان لوگوں کے لیے ایک بہترین آپشن ہے جن کے اثاثے دبئی کے علاوہ دیگر امارات، جیسے ابوظہبی میں بھی ہیں۔ ADJD کے ذریعے وصیت کی رجسٹریشن کی فیس عام طور پر DIFC سے کم ہوتی ہے، لیکن آپ کو قانونی مسودہ سازی کے لیے وکیل کی فیس ادا کرنی ہوگی۔

3. دبئی کورٹس نوٹری پبلک (Dubai Courts Notary Public): آپ دبئی کورٹس کے ذریعے بھی اپنی وصیت کو نوٹرائز کروا سکتے ہیں۔ تاہم، اس کے لیے وصیت کا عربی میں قانونی ترجمہ ہونا ضروری ہے۔ یہ عمل DIFC یا ADJD کے مقابلے میں کم سیدھا ہو سکتا ہے، اور اس بات کا امکان رہتا ہے کہ مستقبل میں اس کی تشریح میں ابہام پیدا ہو۔ اگر آپ اس راستے کا انتخاب کرتے ہیں تو، یہ یقینی بنانا بہت ضروری ہے کہ آپ کا وکیل متحدہ عرب امارات کے قوانین اور عدالتی طریقہ کار کا ماہر ہو۔

میری ذاتی رائے میں، اگر آپ کے اثاثے بنیادی طور پر دبئی میں ہیں، تو DIFC وصیت سروس ذہنی سکون اور قانونی تحفظ فراہم کرنے کا سنہری معیار ہے۔ اگرچہ اس کی ابتدائی لاگت زیادہ معلوم ہو سکتی ہے، لیکن یہ اس ممکنہ مالی اور جذباتی قیمت کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے جو آپ کے خاندان کو وصیت کی عدم موجودگی میں ادا کرنی پڑ سکتی ہے۔

مشترکہ ملکیت: ایک عام غلط فہمی

بہت سے شادی شدہ جوڑے دبئی میں مشترکہ ناموں سے جائیداد خریدتے ہیں، یہ فرض کرتے ہوئے کہ اگر ان میں سے کسی ایک کا انتقال ہو جاتا ہے، تو جائیداد کا پورا मालिकाना हक خود بخود زندہ بچ جانے والے شریک حیات کو منتقل ہو جائے گا۔ یہ ایک بہت بڑی اور خطرناک غلط فہمی ہے۔ متحدہ عرب امارات میں، ”حقِ بقا“ (Right of Survivorship) کا اصول خود بخود لاگو نہیں ہوتا جیسا کہ بہت سے مغربی ممالک میں ہوتا ہے۔

جب ایک مشترکہ مالک کا انتقال ہو جاتا ہے، تو جائیداد میں اس کا حصہ (عام طور پر 50%) اس کی جائیداد کا حصہ بن جاتا ہے۔ یہ حصہ پھر اس کی وصیت کے مطابق یا، وصیت کی عدم موجودگی میں، وراثت کے قوانین کے تحت اس کے قانونی ورثاء میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زندہ بچ جانے والا شریک حیات اچانک خود کو متوفی کے خاندان کے دیگر افراد (جیسے والدین یا بہن بھائی) کے ساتھ جائیداد کا مشترکہ مالک پا سکتا ہے۔ یہ صورتحال انتہائی پیچیدہ اور تکلیف دہ ہو سکتی ہے، خاص طور پر اگر خاندان کے دیگر افراد جائیداد فروخت کرنا چاہیں جبکہ زندہ بچ جانے والا شریک حیات وہاں رہنا چاہتا ہو۔

اس مسئلے کا واحد حل یہ ہے کہ دونوں مشترکہ مالکان کے پاس اپنی اپنی وصیتیں ہوں۔ میاں بیوی ”آئینہ وصیتیں“ (Mirror Wills) بنا سکتے ہیں، جہاں ہر ایک اپنی جائیداد کا حصہ دوسرے کو وصیت کرتا ہے، اور اگر دونوں کا ایک ساتھ انتقال ہو جائے تو بچوں یا دیگر نامزد ورثاء کو منتقل کرنے کا انتظام کرتا ہے۔ یہ ایک سادہ سا قدم ہے جو آپ کے شریک حیات کو بہت بڑی پریشانی سے بچا سکتا ہے۔ اگر آپ نے Palm Jumeirah پر ایک ولا یا Business Bay میں ایک اپارٹمنٹ مشترکہ طور پر خریدا ہے، تو آپ دونوں کو آج ہی اپنی وصیتوں کی منصوبہ بندی شروع کر دینی چاہیے۔

دبئی میں پراپرٹی خریدنا صرف ایک مالی فیصلہ نہیں، یہ آپ کے خاندان کے لیے ایک سرمایہ کاری ہے۔ اس سرمایہ کاری کو صحیح معنوں میں محفوظ بنانے کا مطلب یہ ہے کہ آپ ایک واضح وصیت کے ذریعے اس کے مستقبل کی منصوبہ بندی کریں۔

اس سے بھی بڑھ کر، جب مشترکہ ملکیت میں رہن (مارگیج) شامل ہو، تو صورتحال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ بینک بقایا قرض کی ادائیگی کے لیے متوفی کی جائیداد پر دعویٰ کر سکتا ہے۔ اگر آپ کے پاس لائف انشورنس پالیسی نہیں ہے جو مارگیج کو कवर کرتی ہو، تو زندہ بچ جانے والے شریک حیات پر اچانک پورا قرض ادا کرنے کا دباؤ آ سکتا ہے، یا بینک جائیداد پر قبضہ کر سکتا ہے۔ لہذا، مشترکہ مالکان کے لیے نہ صرف وصیت بلکہ مناسب لائف انشورنس کا ہونا بھی بہت ضروری ہے۔

اثاثوں کی منتقلی: زندگی میں گفٹ (ہبہ)

کچھ لوگ وراثت کے عمل سے مکمل طور پر بچنے کے لیے اپنی زندگی میں ہی اپنے اثاثے، خاص طور پر جائیداد، اپنے بچوں یا شریک حیات کو منتقل کرنے پر غور کرتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے قانون میں، اس عمل کو ”ہبہ“ یا گفٹ کہا جاتا ہے۔ یہ ایک قابلِ عمل آپشن ہو سکتا ہے، لیکن اس کے اپنے فوائد اور نقصانات ہیں جن پر احتیاط سے غور کرنا چاہیے۔

گفٹ کے فوائد:

  • فوری منتقلی: جائیداد فوری طور پر وصول کنندہ کے نام پر منتقل ہو جاتی ہے، اور مستقبل میں وراثت کے کسی بھی عمل کی ضرورت نہیں رہتی۔
  • کم فیس: دبئی لینڈ ڈیپارٹمنٹ (DLD) فرسٹ ڈگری رشتہ داروں (والدین، بچوں، میاں بیوی) کے درمیان گفٹ کے ذریعے جائیداد کی منتقلی پر صرف 0.125% کی معمولی فیس وصول کرتا ہے (کم از کم فیس 4,000 درہم)، بشرطیکہ جائیداد کی قیمت کم از کم 500,000 درہم ہو۔ یہ معیاری 4% ٹرانسفر فیس کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
  • یقین دہانی: یہ عمل آپ کو اپنی زندگی میں ہی اس بات کا یقین دلاتا ہے کہ آپ کی جائیداد آپ کے منتخب کردہ شخص کو مل گئی ہے۔

گفٹ کے نقصانات:

  • کنٹرول کا خاتمہ: ایک بار جب آپ جائیداد گفٹ کر دیتے ہیں، تو آپ اس پر اپنا قانونی کنٹرول کھو دیتے ہیں۔ وصول کنندہ (مثال کے طور پر، آپ کا بیٹا یا بیٹی) جائیداد کو آپ کی مرضی کے خلاف فروخت کر سکتا ہے، اس پر رہن لے سکتا ہے، یا اگر ان کے اپنے مالی مسائل ہوں تو وہ اسے کھو سکتے ہیں۔
  • ناقابل واپسی: گفٹ ایک ناقابل واپسی عمل ہے۔ اگر مستقبل میں آپ کے اپنے رشتہ داروں کے ساتھ تعلقات خراب ہو جاتے ہیں، تو آپ جائیداد واپس نہیں لے سکتے۔
  • ممکنہ خاندانی تنازعات: اگر آپ کے ایک سے زیادہ بچے ہیں اور آپ جائیداد صرف ایک کو گفٹ کرتے ہیں، تو یہ دوسرے بچوں کے ساتھ تنازعات اور رنجش کا باعث بن سکتا ہے۔

ایک عملی مثال: گفٹ بمقابلہ وصیت

فرض کریں کہ آپ کے پاس Arabian Ranches میں 4 ملین درہم مالیت کا ایک ولا ہے۔

  • گفٹ کا راستہ: آپ اسے اپنے بیٹے کو گفٹ کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ آپ DLD کو 0.125% فیس (4,000,000 * 0.00125 = 5,000 درہم) کے علاوہ انتظامی فیس ادا کریں گے۔ جائیداد فوری طور پر آپ کے بیٹے کے نام منتقل ہو جائے گی۔ اب وہ اس کا مکمل مالک ہے۔
  • وصیت کا راستہ: آپ ایک DIFC وصیت بناتے ہیں جس کی لاگت تقریباً 10,000 درہم ہے۔ آپ اپنی زندگی بھر ولا کے مالک رہتے ہیں اور اس پر مکمل کنٹرول رکھتے ہیں۔ آپ کے انتقال کے بعد، آپ کا بیٹا (بطور وصی) DIFC عدالتوں میں پروبیٹ کے لیے درخواست دے گا۔ پروبیٹ گرانٹ ہونے کے بعد، وہ DLD میں جائیداد کی منتقلی کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔ اس عمل میں کچھ وقت اور قانونی فیس لگ سکتی ہے، لیکن آپ نے اپنی زندگی بھر اثاثے پر کنٹرول برقرار رکھا۔

عام طور پر، میں گفٹ کا مشورہ صرف اس صورت میں دیتی ہوں جب آپ کو وصول کنندہ پر مکمل بھروسہ ہو اور آپ اثاثے پر کنٹرول چھوڑنے میں راحت محسوس کریں۔ زیادہ تر لوگوں کے لیے، ایک اچھی طرح سے تیار کردہ وصیت زیادہ محفوظ اور لچکدار آپشن ہے۔

آف پلان اور رہن والی جائیدادوں کے لیے خصوصی غور و فکر

دبئی کا رئیل اسٹیٹ مارکیٹ آف پلان پراپرٹیز سے بھرا پڑا ہے، جہاں خریدار تعمیر مکمل ہونے سے پہلے ہی قسطوں میں ادائیگی کرتے ہیں۔ اگر آپ کسی آف پلان جائیداد کے مالک ہیں اور آپ کا انتقال ہو جاتا ہے، تو صورتحال قدرے مختلف ہوتی ہے۔

جب آپ آف پلان جائیداد خریدتے ہیں، تو آپ کا نام ابتدائی طور پر دبئی لینڈ ڈیپارٹمنٹ کے ایک رجسٹر میں درج ہوتا ہے جسے ”عقود“ (Oqood) کہا جاتا ہے۔ آپ کے انتقال کے بعد، آپ کے ورثاء کو ڈویلپر کے ساتھ کیے گئے سیل اینڈ پرچیز ایگریمنٹ (SPA) کے تحت آپ کے حقوق اور ذمہ داریاں وراثت میں ملتی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ انہیں بقایا اقساط کی ادائیگی جاری رکھنی ہوگی۔ اگر وہ ایسا کرنے سے قاصر ہیں، تو وہ جائیداد کھو سکتے ہیں اور ڈویلپر ادا شدہ رقم ضبط کر سکتا ہے، یہ SPA کی شرائط پر منحصر ہے۔ لہذا، اگر آپ کے پاس آف پلان جائیداد ہے، تو یہ اور بھی ضروری ہے کہ آپ کی وصیت میں واضح ہدایات ہوں اور آپ کے پاس لائف انشورنس یا دیگر فنڈز موجود ہوں تاکہ آپ کے ورثاء ادائیگیوں کو جاری رکھ سکیں۔ ایک بار جب جائیداد مکمل ہو جاتی ہے اور ٹائٹل ڈیڈ جاری ہو جاتی ہے، تو یہ ایک معیاری جائیداد بن جاتی ہے اور وراثت کے وہی اصول لاگو ہوتے ہیں۔

اسی طرح، اگر آپ کی جائیداد پر رہن (مارگیج) ہے، تو آپ کی وصیت کو اس کا بھی احاطہ کرنا چاہیے۔ آپ کے انتقال کے بعد، بینک بقایا قرض کی فوری ادائیگی کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ اگر آپ کے ورثاء کے پاس فنڈز نہیں ہیں، تو بینک جائیداد پر قبضہ کر سکتا ہے۔ اس سے بچنے کا بہترین طریقہ مارگیج پروٹیکشن لائف انشورنس پالیسی خریدنا ہے۔ یہ پالیسی خاص طور پر اس لیے بنائی گئی ہے کہ آپ کے انتقال کی صورت میں بقایا رہن کی رقم ادا کر دے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ آپ کے خاندان کو جائیداد بغیر کسی قرض کے ملے۔ جب ہم Gaia Living میں اپنے کلائنٹس کو مارگیج حاصل کرنے میں مدد کرتے ہیں، تو ہم ہمیشہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ وہ مناسب انشورنس کوریج کو اپنی مالی منصوبہ بندی کا ایک لازمی حصہ بنائیں۔

آپ کے خاندان کے لیے عملی اقدامات اور چیک لسٹ

وراثت کی منصوبہ بندی ایک جذباتی اور بعض اوقات مشکل موضوع ہو سکتا ہے، لیکن اسے نظر انداز کرنا آپ کے خاندان کے لیے کہیں زیادہ تکلیف کا باعث بن سکتا ہے۔ یہاں ایک عملی چیک لسٹ ہے جو آپ کو اس عمل کو شروع کرنے میں مدد دے سکتی ہے:

  • اپنے اثاثوں کی فہرست بنائیں: دبئی اور متحدہ عرب امارات میں اپنی تمام جائیدادوں، بینک اکاؤنٹس، سرمایہ کاری، اور دیگر قیمتی اثاثوں کی ایک تفصیلی فہرست تیار کریں۔ ہر اثاثے کے لیے تمام متعلقہ دستاویزات، جیسے ٹائٹل ڈیڈ، SPA، اور بینک اسٹیٹمنٹس کو ایک جگہ جمع کریں۔
  • اپنے ورثاء اور وصی کا تعین کریں: فیصلہ کریں کہ آپ اپنے اثاثے کس کو دینا چاہتے ہیں (ورثاء)۔ اس کے علاوہ، ایک یا دو قابل اعتماد افراد کو بطور ”وصی“ (Executor) نامزد کریں جو آپ کے انتقال کے بعد آپ کی وصیت پر عمل درآمد کروانے کے ذمہ دار ہوں گے۔
  • گارڈین شپ پر غور کریں: اگر آپ کے 18 سال سے کم عمر کے بچے ہیں جو متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں، تو یہ بہت ضروری ہے کہ آپ اپنی وصیت میں ان کے لیے ایک قانونی سرپرست (Guardian) نامزد کریں۔ وصیت کی عدم موجودگی میں، عدالت سرپرست کا فیصلہ کرے گی، جو آپ کی خواہشات کے مطابق نہیں ہو سکتا۔
  • ایک قانونی ماہر سے مشورہ کریں: متحدہ عرب امارات میں وراثت کے قوانین میں مہارت رکھنے والے وکیل سے رابطہ کریں۔ وہ آپ کو آپ کی مخصوص صورتحال کے لیے بہترین آپشن (DIFC وصیت، ADJD وصیت، وغیرہ) منتخب کرنے میں مدد کریں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ آپ کی وصیت قانونی طور پر درست ہے۔
  • اپنی وصیت تیار اور رجسٹر کروائیں: اپنے وکیل کے ساتھ مل کر اپنی وصیت کا مسودہ تیار کریں۔ ایک بار جب یہ حتمی ہو جائے، تو اسے مناسب اتھارٹی (جیسے DIFC یا ADJD) کے پاس رجسٹر کروائیں۔ صرف ایک دستخط شدہ وصیت جو دراز میں پڑی ہو، کافی نہیں ہے۔ اسے قانونی طور پر رجسٹرڈ ہونا چاہیے۔
  • اپنے خاندان کو مطلع کریں: اپنے وصی اور قریبی خاندان کے افراد کو بتائیں کہ آپ نے ایک وصیت بنائی ہے اور اصل دستاویزات کہاں محفوظ ہیں۔ انہیں اپنے وکیل کی رابطہ کی معلومات بھی فراہم کریں۔
  • باقاعدگی سے جائزہ لیں: اپنی وصیت کو ہر چند سال بعد، یا زندگی کے کسی بڑے واقعے (شادی، طلاق، بچے کی پیدائش، بڑی خریداری) کے بعد دوبارہ دیکھیں۔ آپ کے حالات بدل سکتے ہیں، اور آپ کی وصیت کو ان تبدیلیوں کی عکاسی کرنی چاہیے۔
Key takeaway

دبئی میں پراپرٹی کی ملکیت کے ساتھ ذمہ داری بھی آتی ہے۔ اپنے خاندان کے مستقبل کو غیر یقینی صورتحال میں مت چھوڑیں۔ متحدہ عرب امارات کے ترقی پسند قوانین کا فائدہ اٹھائیں اور آج ہی ایک واضح، قانونی طور پر قابلِ عمل وصیت بنا کر اپنی میراث کو محفوظ بنائیں۔ یہ سب سے قیمتی تحفہ ہے جو آپ اپنے پیاروں کو دے سکتے ہیں۔

وراثت کی منصوبہ بندی ایک پیچیدہ عمل لگ سکتا ہے، لیکن یہ آپ کے اور آپ کے خاندان کے ذہنی سکون کے لیے ناگزیر ہے۔ Gaia Living میں، ہم صرف آپ کو بہترین گھر تلاش کرنے میں مدد نہیں کرتے؛ ہم آپ کو اپنی سرمایہ کاری کے ہر پہلو کو سمجھنے میں مدد کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ اگر آپ کے پاس اس بارے میں کوئی سوالات ہیں کہ آپ کی جائیداد کی ملکیت آپ کی وراثت کی منصوبہ بندی کو کس طرح متاثر کرتی ہے، تو ہماری ٹیم آپ کو صحیح سمت میں رہنمائی کے لیے ہمیشہ موجود ہے۔

Sources

Frequently asked

Questions, answered

اگر دبئی میں ایک غیر ملکی بغیر وصیت کے انتقال کر جائے تو کیا ہوتا ہے؟?
اگر کوئی غیر مسلم غیر ملکی وصیت کے بغیر انتقال کر جاتا ہے، تو متحدہ عرب امارات کے پرسنل اسٹیٹس قانون کے مطابق، اس کی جائیداد اس کے آبائی ملک کے قانون کے تحت تقسیم کی جائے گی۔ اگر اس قانون کا اطلاق ممکن نہ ہو تو متحدہ عرب امارات کا وراثت کا قانون لاگو ہوتا ہے۔ کسی بھی صورت میں، عدالتی عمل طویل اور پیچیدہ ہو سکتا ہے۔
کیا دبئی میں غیر مسلموں پر شریعہ وراثت کے قوانین لاگو ہوتے ہیں؟?
عام طور پر نہیں، جب تک کہ وہ اپنی وصیت میں اس کا انتخاب نہ کریں۔ متحدہ عرب امارات کے نئے قوانین غیر مسلم غیر ملکیوں کو اپنے آبائی ملک کے قوانین کا انتخاب کرنے یا متحدہ عرب امارات کے غیر مسلموں کے لیے بنائے گئے قوانین کے تحت اپنی وصیت تیار کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ اگر کوئی وصیت موجود نہیں ہے، تو پہلے آبائی ملک کا قانون لاگو کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
DIFC وصیت کیا ہے اور اس کی کیا اہمیت ہے؟?
DIFC وصیت سروس ایک قانونی طریقہ کار ہے جو غیر مسلموں کو دبئی اور راس الخیمہ میں موجود اپنے اثاثوں کے لیے ایک قانونی طور پر قابلِ عمل وصیت رجسٹر کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ شریعہ اصولوں کے اطلاق کو نظرانداز کرتا ہے اور اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ آپ کے اثاثے آپ کی خواہشات کے مطابق تقسیم ہوں۔
میں اپنی دبئی کی جائیداد اپنے خاندان کو کیسے منتقل کر سکتا ہوں؟?
آپ اپنی زندگی میں گفٹ (ہبہ) کے ذریعے جائیداد منتقل کر سکتے ہیں، جس پر دبئی لینڈ ڈیپارٹمنٹ (DLD) کی 0.125% فیس لاگو ہوتی ہے، بشرطیکہ جائیداد کی قیمت کم از کم 500,000 درہم ہو۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ایک وصیت بنائی جائے جو آپ کے انتقال کے بعد آپ کی خواہشات کے مطابق منتقلی کو یقینی بنائے۔
مشترکہ ملکیت والی جائیداد کا وراثت میں کیا ہوتا ہے؟?
مشترکہ ملکیت میں، جب ایک مالک کا انتقال ہو جاتا ہے، تو اس کا حصہ خود بخود دوسرے مالک کو منتقل نہیں ہوتا۔ متوفی کا حصہ اس کی وصیت کے مطابق یا وراثت کے قوانین کے تحت اس کے ورثاء کو جاتا ہے۔ اس پیچیدگی سے بچنے کے لیے ہر مشترکہ مالک کے لیے وصیت بنانا بہت ضروری ہے۔
کیا مجھے دبئی میں وراثت کی منصوبہ بندی کے لیے وکیل کی ضرورت ہے؟?
اگرچہ یہ قانوناً لازمی نہیں ہے، لیکن میں اس کی سختی سے سفارش کرتی ہوں۔ وراثت کے قوانین پیچیدہ ہیں، اور ایک تجربہ کار وکیل اس بات کو یقینی بنا سکتا ہے کہ آپ کی وصیت قانونی طور پر درست، قابل نفاذ اور آپ کی مخصوص صورتحال کے مطابق ہو۔ یہ آپ کے خاندان کو مستقبل میں بہت سی پریشانیوں اور اخراجات سے بچا سکتا ہے۔
صائمہ حسن — portrait
تحریر کردہ
پہلی بار خریداروں کی گائیڈ

حنا پہلی بار گھر خریدنے والوں اور غیر ملکیوں کے لیے خریدنے کے سفر کو آسان بناتی ہیں – رہن (mortgages)، ویزا، ایسکرو (escrow) اور کاغذی کارروائی۔ کوئی پیچیدہ اصطلاحات نہیں، کوئی مفروضے نہیں۔

ان باکس میں گونج

ہر ماہ ایک باخبر ای میل۔ مارکیٹ کی بصیرت، نئی لانچز، سپیم نہیں۔